ابنا: گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کی ایک سرحدی فوجی چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے میں اٹھائیس پاکستانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں نیٹو کیلئے سپلائی لائن بند کردی ہے ۔
اگر چہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں نیٹو سپلائی بحال کئے جانے کی منظوری دیدی تاہم قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند کئے جانے کا مطالبہ کیا مگر امریکہ، پاکستان کی پارلیمنٹ کے اس مطالبے پر کوئی توجہ دئے بغیر اپنے ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور حال ہی میں اس نے میران شاہ پر حملہ کیا ہے جس میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔
اس حملے کے بعد پاکستان کے عوام میں امریکہ کے خلاف غصہ اورجوش و جذبہ اور زیادہ بڑھ گیا ہے جیساکہ انھوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکہ مخالف مظاہرے کرکے اپنے ملک کی حکومت کو نیٹو سپلائی بحال کئے جانے پر خبردار کیا ہے ۔
اس سے قبل پاکستان کے حکام نے بھی قبائلی علاقوں پر جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گذشتہ سال دسمبر میں افغانستان کے مسائل کا جائزہ لینے کے مقصد سے جرمنی کے شہر بون میں تشکیل پانے والی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا اس رو سے ایسا نہیں لگتا کہ شیکاگو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دئے چانے پر حکومت پاکستان کو کوئی اعتراض ہوگا یا وہ برہمی کا اظہار کریگی لیکن پاکستان کی حکومت اور عوام کی نظر میں جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ،ان کے مطالبات پر امریکہ اور نیٹو کی جانب سے کوئی توجہ نہ دئے جانے کا مسئلہ ہے جبکہ امریکہ اور نیٹو،
پاکستان پر اپنا دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے نیٹو سپلائی کی بحالی اور طالبان کے سلسلے میں اپنے مطالبات منوانے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں جیساکہ امریکہ نے پاکستان پر طالبان کے مسئلے میں دوھرے معیار کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا ہے اور سینیٹر جان کیری نے تو دھمکی دی ہے کہ پاکستان اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھہ نہیں دیتا ہے تو واشنگٹن کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
سیاسی مبصرین کی نظر میں شیکاگو اجلاس سے قبل اس قسم کی دھمکی غور طلب ہے ۔ اسلئے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ، پاکستان کو کسی بھی طرح کی مراعات اور قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند کئے جانے کے بارے میں پاکستانی عوام کے مطالبے پر کوئی توجہ دئے بغیر اسلام آباد کو واشنگٹن کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہا ہے.........
/169